آسٹریلیا
آسٹریلیا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1948 میں پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ پاکستان آسٹریلیا تعلقات مضبوط اقتصادی اور ترقیاتی تعاون پر استوار ہیں۔ آسٹریلیا پاکستانی طلبہ کی پسندیدہ منزل ہے اور تقریبا 125,000 افراد پر مشتمل پاکستانی تارکینِ وطن کی کمیونٹی آسٹریلیا میں مقیم ہے۔ کرکٹ کھیلنے والی اقوام کی حیثیت سے دونوں ممالک اس کھیل کے لیے مشترکہ جذبہ رکھتے ہیں اور کئی یادگار مقابلے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خوشگوار تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ساتھ کثیر شعبہ جاتی تعاون اقتصادیات، تجارت، تعلیم، دفاع، زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور سائنس و ٹیکنالوجی پر محیط ہے۔ تعاون کے شعبوں کی نشاندہی اور ان پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے متعدد سیاسی اور اقتصادی میکانزم قائم کیے گئے ہیں جن میں سینئر اہل کاروں کے مذاکرات، دوطرفہ سیاسی مشاورت، مشترکہ تجارتی کمیٹی، سرحدی انتظام اور بین الاقوامی جرائم سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ اور پاک آسٹریلیا دفاع و سلامتی مذاکرات شامل ہیں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دوطرفہ تجارت 962 ملین امریکی ڈالر ہے۔ آسٹریلیا کو پاکستان کی اہم برآمدات میں تیار شدہ ٹیکسٹائل، ملبوسات، اناج، چمڑے کی اشیا اور جراحی آلات شامل ہیں جبکہ آسٹریلیا سے درآمدات میں دالیں، کھادیں، لوہا و فولاد، لکڑی کی مصنوعات، دفتری مشینری،خام جست، کیڑے مار ادویات، رنگ شامل ہیں۔
نیوزی لینڈ
پاکستان اور نیوزی لینڈ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک دولتِ مشترکہ کے رکن ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین قائم دوطرفہ میکانزم میں دوطرفہ سیاسی مشاورت اور مشترکہ تجارتی کمیٹی شامل ہیں۔ دوطرفہ تجارت 12 ملین امریکی ڈالر ہے جس میں پاکستان کی اہم برآمدات میں ٹیکسٹائل مصنوعات، ملبوسات، چاول، چمڑے کی اشیا اور کھیلوں کا سامان شامل ہیں جبکہ نیوزی لینڈ سے اہم درآمدات میں ڈیری مصنوعات، لکڑی کا گودا، کاغذ، خوردنی تیل، لکڑی، لوہا و فولاد اور بجلی کی مشینری شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ میں تقریبا 9,000 تا 9,500 افراد پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی مقیم ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔